پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک نئے عالمی کرکٹ گورننگ ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کو خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’جینٹل مین کھیل کی روح کو زندہ رکھنے کے لیے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کی ضرورت ہے۔ آئی سی سی جنوبی ایشیا میں انڈین سیاسی مفادات کی یرغمال بن چکی ہے۔‘
یہ بیان ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک نئے تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے قومی مینز کی ٹیم کو آئندہ ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، جو سات فروری سے انڈیا اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔ تاہم قومی ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف ہونے والا اپنا میچ بائیکاٹ کرے گی۔
آئی سی سی نے پاکستان کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’عالمی کرکٹ اور دنیا بھر کے شائقین، بشمول پاکستان میں موجود لاکھوں مداحوں، کے مفاد میں نہیں ہے۔‘
پاکستان اور آئی سی سی کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ حالیہ فیصلہ بھی ہے، جس میں آئی سی سی نے ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کیا۔ بنگلہ دیش نے سیاسی کشیدگی میں اضافے اور سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے میچز انڈیا کے بجائے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق انڈیا کرکٹ کی عالمی کمرشل آمدن میں سب سے بڑا حصہ دار ہے، جس کے باعث اسے کھیل کے معاملات میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مالی برتری آئی سی سی کے اندر فیصلہ کن طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اس آمدن کا ایک بڑا حصہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے حاصل ہوتا ہے، جو ٹی20 فارمیٹ کی سب سے منافع بخش لیگ ہے اور انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے زیرِ انتظام چلتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، 2024 سے 2027 کے دوران آئی پی ایل کی متوقع آمدن 1.15 ارب ڈالر رہی، جو آئی سی سی کی مجموعی سالانہ آمدن کا تقریباً 39 فیصد بنتی ہے۔
آئی سی سی کے سربراہ جے شاہ ہیں، جو انڈین وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے صاحبزادے ہیں۔ بطور آئی سی سی کے چیئرمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی قومی کرکٹ بورڈ سے آزاد رہتے ہوئے غیر جانبدار فیصلے کریں گے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ سال مئی میں چار روزہ فوجی تصادم بھی ہوا تھا، جس کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اس دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ڈرونز، میزائل، لڑاکا طیاروں اور توپوں کا استعمال کیا، جو 1999 کے بعد بدترین لڑائی سمجھی جاتی ہے۔
یہ دوطرفہ کشیدگی کرکٹ تک بھی پہنچ چکی ہے۔ ستمبر 2025 میں ایشیا کپ کے دوران انڈین کھلاڑیوں نے پاکستانی کرکٹرز سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دونوں ٹیمیں تین میچز میں آمنے سامنے آئیں، تینوں میچ انڈیا نے جیتے، جبکہ کسی میچ سے قبل یا بعد میں مصافحہ نہیں کیا گیا۔
سیاسی اختلافات کے باعث پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2012 سے 2013 کے بعد کوئی مکمل دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی۔ دونوں ٹیمیں عموماً نیوٹرل وینیوز پر ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔