العلا گورنریٹ نے معروف فلکیاتی فوٹوگرافرز کے اشتراک سے ایک نئی مہم شروع کی ہے تاکہ العلا کو پائیدار ایسٹرو ٹوئرازم کے عالمی مرکز کے طور پر اجاگر کیا جا سکے۔ یہ اقدام رائل کمیشن فار العلا (آر سی یو) کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد گورنریٹ کے قدرتی اور ماحولیاتی اثاثوں کو نمایاں کرنا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ مہم ’العلا منارہ‘ کے تحت شروع کی گئی ہے جس کے ذریعے آر سی یو کے اہداف کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ان اہداف میں رات کے آسمان کا تحفظ، اس کی غیر معمولی شفافیت اور کم روشنی کی آلودگی کو نمایاں کرنا، اور مملکت و بیرون ملک سے آنے والے فلکیات اور ستارہ بینی کے شوقین افراد کے لیے منفرد ایسٹرو ٹوئرازم تجربات تیار کرنا شامل ہے۔
اس اقدام کے تحت قومی اور عرب فلکیاتی فوٹوگرافرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا جس سے معیار بہتر ہوا اور تجربات کا تبادلہ ممکن ہوا۔ تکنیکی اور سائنسی مہارتوں کے تبادلے کو فروغ ملا اور اس شعبے میں پیشہ ورانہ طریقہ کار کو تقویت ملی۔
j یہ مہم العلا کی فلکیاتی خصوصیات کو اجاگر کرنے، اسے عالمی ڈارک سکائی مقامات میں شامل کرنے اور رات کے آسمان کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے پر توجہ دیتی ہے۔
شرکا میں سعودی ایسٹرو فوٹوگرافر ابوبکر عبداللہ باسودان بھی شامل تھے، جنہوں نے العلا کے صاف آسمان اور کم روشنی کی آلودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف فلکی مناظر محفوظ کیے۔

انہوں نے جدید فلکیاتی کیمروں، دوربینوں اور سٹار ٹریکرز کی مدد سے برجِ جبار (اورائن) اور اس کی مشہور نیبولا، شہاب ثاقب اور دیگر مدھم فلکی اجسام کی تصاویر بنائیں۔
ان کے اس کام پر انہیں سعودی سپیس ایجنسی کی جانب سے منعقدہ ’ابعاد‘ کے مقابلے میں ملک بھر میں پہلی پوزیشن ملی جو خلائی سائنس اور ایسٹروفوٹوگرافی میں قومی صلاحیتوں کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔
آر سی یو کی کوششوں کے نتیجے میں گورنریٹ کے کئی مقامات کو ڈارک سکائی کا درجہ دیا گیا ہے جن میں العلا منارہ اور الغرامیل ریزرو شامل ہیں، جو مملکت اور خلیجی خطے کے پہلے منظور شدہ ڈارک سکائی مقامات ہیں۔

اس کے علاوہ شرعان نیچر ریزرو اور وادی نخلہ نیچر ریزرو کو بھی بین الاقوامی معیار کے تحت یہ درجہ دیا گیا ہے، جس کا مقصد روشنی کی آلودگی کو کم کرنا اور رات کے آسمان کا تحفظ ہے۔
یہ کامیابیاں العلا کو دنیا کے نمایاں ایسٹرو ٹوئرازم مقامات میں شامل کرتی ہیں جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جن کا مقصد آمدنی کے ذرائع میں تنوع اور عالمی سطح پر مملکت کے ثقافتی اور سائنسی مقام کو مضبوط بنانا ہے۔